audio_file audioduration (s) 7 15 | text stringlengths 31 259 | speaker_name stringclasses 1
value | __index_level_0__ int64 0 6.32k |
|---|---|---|---|
مگر آج وہ خطرناک ترین سیال مادہ تیزاپ کی صورت میں جس کے انتہائی کم محلق نمونے ماضی میں سیمیول کو آکٹک میں ملے تھے بہت بڑی مقدار میں گہرے پانیوں میں شامل ہونے کو بڑھ رہا تھا۔ | speaker3 | 0 | |
انٹاکٹکا کی برف میں تباہی مچاتا ہوا یہ محلک ترین تیز آب اپنی جگہ بناتا لاوے کی مانند مسلسل آگے بڑھ رہا تھا | speaker3 | 1 | |
آکٹک کی برف کی تہوں کے نیچے سمندر میں سیلز اور ویل مشلیوں کی بڑی تعداد ایک ہی دن میں ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکی تھی جگہ جگہ پینگوئنز اور برفانی ریچوں کی باقیات راک کی صورت میں بکری پڑی تھی | speaker3 | 2 | |
سیٹیلائٹس ریپورٹس کے مطابق لگ بھگ ایک ماہ کے عرصے میں یہ محلق تیزاب پوری دنیا کے سمندروں میں شامل ہو سکتا تھا۔ | speaker3 | 3 | |
انٹاکٹکہ آرکٹک میں تہرتی سیلز، ویل مشلیاں اور وہاں موجود برفانی ریچ اور پینگوینز کے لیے | speaker3 | 4 | |
پوری دنیا کے کیمیا کے ماہر ماضی میں محفوظ کیے گئے سیمیول کے نمونوں کی بدولت اس عجیب و غریب نوعیت کے شدید تیز آپ کو سمجھنے کی کوشش میں تھے جو پورے بحری جہاز کو منٹوں میں پگھلا کر محلول بنا سکتا تھا۔ | speaker3 | 5 | |
اگر واقعی یہ شدید نوعیت کا تیزاب گہرے پانی میں شامل ہو گیا تو وہاں موجود تمام بحری جہاز اور کشتیاں بھی لمحوں میں اسی طرح پگھل کر تباہ ہو سکتے ہیں | speaker3 | 6 | |
ان حالات میں پوری دنیا کے سمندروں میں موجود بحری جہازوں کو پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ وہ جلد از جلد گہرے پانیوں سے باہر نکل جائیں اور قریبی ساحلوں پر جہازوں کو فوری طور پر لنگر انداز کر دیں | speaker3 | 7 | |
فوری طور پر اس فیلڈ کے ماہر کیمیا دان سیمیول کی خدمات حاصل کرنے کا حکم جاری ہوا اور سیمیول کو اس اجلاس میں بلایا گیا۔ | speaker3 | 8 | |
سیمیول نے تمام صورتحال سننے کے بعد سب کو یاد دلایا کہ اس نے کچھ سال پہلے اس متوقع خطرے سے سب کو پیشگی آگاہ بھی کیا تھا | speaker3 | 9 | |
مگر کسی نے بھی عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے کی صورت میں اس تیزاب سے پیدا ہونے والی تباہی کو چند سال پہلے سنجیدہ نہ لیا اور آج صورتحال ناقابل یقین حد تک خطرناک صورت اختیار کر گئی | speaker3 | 10 | |
پوری دنیا اپنی جانب بڑتی تباہی کی وجہ سے خوف کی لپیٹ میں تھی، بعض لوگ اس آفت کو خدا کا عذاب سمجھ کر عبادات میں مگن تھے۔ | speaker3 | 11 | |
کچھ کے بقال ایسے واقعات ان کی مذہبی کتابوں میں ملتے ہیں جہاں دریا کا پانی خون آلود ہو گیا اور اردگرد کے شہر قہد کا شکار ہوئے | speaker3 | 12 | |
مگر سیمیول اور اس کی ٹیم ان مفروضات میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینے کی بات کر رہی تھی | speaker3 | 13 | |
ہر اگلے دن سمندری پانی میں تیزاب کی مقدار بڑھ رہی تھی مشلیوں اور دیگر آبی حیات کی امواد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی تھی | speaker3 | 14 | |
پینے کے پانی کا واحد زریعہ زمین کی طے سے نکالا جانے والا پانی رہ گیا تھا جس میں تاحال تیزاب نہیں پہنچ سکا تھا مگر گزشتہ چند دنوں بڑی مقدار میں ہینڈ پمپ لگانے سے زخیرے میں بھی تیزی سے کمی ہو رہی تھی | speaker3 | 15 | |
ان کے بقول اس تیزاب کا رفع کرنے کا واحد علاج یہ ہے کہ ہر زیرو شخص ایک ٹانگ پر کھڑا ہو ماتے پر ہر صورت زرد رنگ کا تلک لگایا اور صرف اور صرف تلک لگانے والے کو ہی تیزاب کا کوئی اثر نہیں ہوگا | speaker3 | 16 | |
برف کے کئی کوز پر پھیلے بڑے تودے میں شگاف پیدا ہوا اور وہ ٹوٹ کر سمندر میں جا گرا اور گرتے ہی اس کی تہہ سے تیزاب کی طرح کا سیال مادہ اُبلنے لگا۔ | speaker3 | 17 | |
اس خجالہ سے بچنے کے لئے ان کے لئے فلپائن سے خاص آرڈر دے کر ان کے چوکھٹے کے سائز کے مینی وک داڑھی امپورٹ کی گئی جسے وہ مجبوراں ٹیپ سے چپکا کر پہننے لگے۔ | speaker3 | 18 | |
گردوں نواہ میں برف کی طے کے نیچے موجود سیل اور ویل مشلیوں کے جسم چند ہی سیکنڈ میں پہلے ہڈیوں کا ڈھانچا اور پھر راکھ میں بدلنے لگے | speaker3 | 19 | |
یہ انتہائی تیز اثر کا تیزاب برفانی ریچوں اور پینگوئنز کو لمحوں میں دیکھتے ہی دیکھتے گلا کر فنا کرتا تیزی سے گہرے سمندری پانیوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ | speaker3 | 20 | |
چند سال پہلے عالمی درجہ حرارت پر تحقیق کرنے والی علمِ کیمیاں اور عزیات کے ماہر سائنسدانوں کی ٹیم | speaker3 | 21 | |
مگر کبھی کبھار وہ جانتے بوچھتے ہوئے بھی کہ اس کے سب نوکر چاہ کر اس کے فن پاروں کو نہیں سمجھ سکتے وہ ان سب کو اکٹھا کرتا اور ان سے پوچھتا کہ اسے بتائیں کہ انہیں یہ سب گول دائرے جیسے آرٹ کے نمونے کیسے لگتے ہیں | speaker3 | 22 | |
دن رات ہر پل گول گول ڈھیلوں کو بھیلتا اور ان میں کبھی چمکدار آنکھوں کو چندھیا دینے والے رنگ ڈالتا اور کبھی صرف سیاہ رنگ کر دیتا | speaker3 | 23 | |
کبھی کبھی اسے لگتا جیسے یہ سب فنپارے ایک ہی جیسے ہیں اور اسے افسوس ہوتا کہ اس نے اپنا اتنا وقت ایک ہی جیسے ایسے فنپاروں میں کیوں گوا دیا جنہیں اس کے سوا نہ ہی کوئی دیکھ سکتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔ | speaker3 | 24 | |
وہ ایک ایسے ڈپریشن میں جا چکا تھا جہاں سے نکلنے کے لئے اسے کسی ایسے ہمراز کسی ایسے دوست کی ضرورت تھی جو اسے سمجھ سکتا | speaker3 | 25 | |
وہ تعریف کا بھوکا رہنے لگا آہستہ آہستہ اس کی خودصری بڑھنے لگی اس نے اپنے کئی ملازموں کو بغیر کسی نوٹس کے کام سے فارغ کرنا شروع کر دیا | speaker3 | 26 | |
ملازمین اس سے بدزن ہونے لگے تھے مگر وہ اپنے تخلیقی آرٹ کے تکبر میں کسی کو خاتر میں نہ لاتا اور اپنے ارد گرد سے بنیاز ہو کر پھر کسی فنپارے کو بنانے میں مگن ہو جاتا | speaker3 | 27 | |
کچھ دن کی انتھک محنت کے بعد وہ اپنا بہترین آرٹ تخلیق کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ایک انتہائی خوبصورت مجسمہ بنایا اور اس کے تقریبے رنومائے کا احتمام کیا۔ | speaker3 | 28 | |
اس نے اپنے تمام ملازمین کو اکٹھا کیا اور مجسمہ ان کے سامنے رکھ کر سب کو کہا کہ وہ اس کی تعریف کریں اور اسے بہترین آرٹ تخلیق کرنے پر مبارک بات دیں۔ | speaker3 | 29 | |
کچھ دن وہ اپنے نئے مجسمے کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہا وہ اکیلہ اس سے باتیں کرتا رہتا مگر کچھ ہی دن بعد اس کا جی اس مجسمے سے بھر گیا | speaker3 | 30 | |
اسے مجسمے کی آنکھیں ہر وقت اپنی جانب گھورتی دکھائی دینے لگیں۔ ایک دن غصے میں اس نے اسی مجسمے کو گھورنے اور نہ مسکرانے کی پاداش میں کمر پر ایک زوردار مکہ رسید کیا۔ | speaker3 | 31 | |
اس نے اس بدتمیز مجسمے کو اٹھوا کر اپنے پائیں باغ میں کھڑا کر دیا اور خود پہلے والے مجسمے سے گرنے والی مٹی سے ذرا مختلف نازک انڈام مجسمے پر دن رات کام کرنے میں جد گیا۔ | speaker3 | 32 | |
چند روز میں ہی اس کا دوسرا شاندار مجسمہ تیار ہو گیا۔ وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ اس نے سب ملازمین کو اپنا نیا مجسمہ دکھایا۔ سب نے اس کی دل کھول کر تعریف کی۔ | speaker3 | 33 | |
نہ اسے نیند آتی تھی نہ اونگ وہ ہر پل ہر سائز کے چھوٹے بڑے گول مٹول مٹی کے ڈھیلے بھیلنے میں مگن رہتا۔ | speaker3 | 34 | |
اس کا غصہ اب بھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے تیش میں آ کر اپنے سارے گول آرٹ کے نمونیں مہل سے باہر پھنکوا ڈالے۔ | speaker3 | 35 | |
کچھ دن وہ اکیلا روتا بلکتا سخت جھنجلا ہٹ اور انگزائیٹی کا شکار رہا اور عجیب و غریب اشکال کے چوپائے مجسمے بناتا رہا۔ | speaker3 | 36 | |
مگر اسے کسی کل چین نہ آتا تھا۔ اس نے اپنے ملازم کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ اس کا دل بہلانے کے لئے کوئی شیر و شاعری سنائے۔ | speaker3 | 37 | |
ایک تنہا چھپا ہوا فنکار رات دن واہموں میں رہتا تھا چین اس کو کسی بھی کل نہ تھا نیند آتی تھی اس کو نہ ہی اونگ رات دن اپنے دونوں ہاتھوں سے وہ ستاروں کو خلق کرتا تھا | speaker3 | 38 | |
ایک دن اس نے اپنے ایک ستارے میں خوبرو اور حسین پارے میں ایک ایسے جہاں کو خلق کیا جس میں اس نے تمام رنگوں کو ایسا گوندھا کہ کچھ اچھوتے رنگ اس کی آنکھوں کے سامنے آئے۔ | speaker3 | 39 | |
ان کو گول بنا کر وہ ان پر کبھی اپنے من پسند رنگ ڈالتا اور کبھی بالکل روکھے اور ویران گول ڈھیلے بنا کر اپنے ارد گرد بکھر دیتا۔ | speaker3 | 40 | |
اب ہر روز اس کا معمول ہو گیا کہ وہ بالکنی سے اپنے فنپاروں کو گھنٹوں تکا کرتا اور سب فنپاروں کو کہتا کہ تمہیں محل میں اُس دن لاؤں گا جس دن میرا غصہ تھنڈا ہوگا | speaker3 | 41 | |
اب بھی وہ مختلف شکلوں کے فنپارے ہر روز بناتا، کچھ دن ان کو دیکھتا، دلعوب جانے پر انہیں باہر پھنکوا دیتا اور بالکنی سے ٹکتا رہتا۔ | speaker3 | 42 | |
وہ اپنے ان فنپاروں کو دن رات تنہا اکیلا تکا کرتا اور پھر ایک نیا ڈھیلا لے کر گول گول بھیلنا شروع کر دیتا | speaker3 | 43 | |
اس کا نہ کوئی دوست تھا نہ ہی کوئی جاننے والا نہ ماباب بیوی بچے جنہیں وہ یہ فنپارے دکھاتا اور ان سے رائے مانگتا کہ وہ کیسے ہیں | speaker3 | 44 | |
اور ہوتا بھی یہی جوں ہی میں انہیں کٹوری تھماتا اج جو بوہا میرے لیے اونچی آواز میں دعائیں دینا شروع کر دیتی | speaker3 | 45 | |
ہم سب پڑھ لکھ کر جوان ہو گئے، حسولِ معاش کے لئے پردیس چلے گئے، سال دو سال بعد کبھی گھر کا چکر لگتا تو اجو بوہا سے بھی ملاقات ہو جاتی | speaker3 | 46 | |
اس بار جب میں چھٹی پر گھر گیا تو اجو بوہا گھر پر ہی تھی بڑا سا گھونگٹ جوں کا توں تھا مجھے دیکھتے ہی بڑے میاں کو یاد کر کے رونے لگیں | speaker3 | 47 | |
جب میں اپنے وطن سے نکلی تھی تو میری اور بڑے میاں کی شادی کو ایک ہی سال ہوا تھا میرا چھٹا مہینہ چل رہا تھا راستے میں بلوائیوں نے ریل پر دھاوا بول دیا اور ہمیں ریل سے اتر کر بھاگنا پڑا | speaker3 | 48 | |
اس دوران ہم کچھ دیر کے لئے بچھڑ گئے تھے ایک کمبخت بلوائی میرا پیچھا کرنے لگا اس نے مجھے دبوش لیا اور میرا ہار گلے سے کھینچنا چاہا اور میری چادر جگہ جگہ سے پھاڑ دی | speaker3 | 49 | |
وہ ہار میری دادی کی نشانی تھی مگر میں نے بھی ہمت نہ ہاری اور اس سے مزاحمت کرتی رہی اور خوب جم کر مقابلہ کیا مگر اس نے بھاگنے سے پہلے میرے پیٹ پر اتنی زور سے لات ماری کہ میں سنبھل نہ سکی اور نیچے گر کر بے ہوش ہو گئی | speaker3 | 50 | |
جس ٹروما اور عذیر سے وہ گزریں اس کے بعد ان کی جگہ کوئی بھی ہوتا انہی کی طرح کسی کو اپنا چہرہ دکھانے سے ڈرتا | speaker3 | 51 | |
آج جو بوہا کا چہرہ اپنے وطن کی باتیں بتاتے ہوئے گلاب کی طرح سرخ ہو رہا تھا اپنے ارد گرد بہت سی خواتین کو بغیر گھونگٹ کے دیکھ کر آہستہ آہستہ ان کا خوف کم ہوتا جا رہا تھا | speaker3 | 52 | |
اسے دیکھ کر اچجو بوہا ایک دم گھبرا کر سیٹ پر اچھل پڑی اور خوف سے سیٹ پر دونوں پاہوں رکھ کر اکڑوں بیٹھ گئیں۔ | speaker3 | 53 | |
اچجو بوہ لگاتار غصے میں بول رہی تھیں پورے سینما میں بیٹھے لوگ اسکرین کو چھوڑ کر اچجو بوہ کی گفتگو ہس ہس کر سن رہے تھے | speaker3 | 54 | |
اجو بوہا اور بڑے میاں کو اسکول کا ایک کمرہ رہنے کے لیے بھی دے دیا گیا اسکول کی آدھی چھٹی میں اجو بوہا بڑا سا گھونگٹ نکالے چھوٹا سا سٹال لگائے بچوں کو توفیاں اور ٹیڈی بسکٹ بیچا کرتیں | speaker3 | 55 | |
میں، آفتاب اور آطف جو چوتھی میں میرے ہم جماعت تھے، ہم تینوں اچجو بوہا سے ٹوفیاں اور ٹیڈی بسکٹ خریدتے ہوئے خوب بھاوتاؤ کیا کرتے۔ | speaker3 | 56 | |
ایک دن اس نے سب کو مجبور کیا کہ اگر سب پورا دن اپنا کھانا پینا بند کر دیں اور سارا دن اس کے نہ دکھائی دینے والے پالتو جانور کے ساتھ کھیلیں تو اس کا پالتو جانور ضرور اپنا دیدار سب کو کروائے گا | speaker3 | 57 | |
ہم سب نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی بات کا یقین کیا اور اس کی خاطر اس کے بتائے ہوئے طریقے سے وہ سب کچھ ٹھیک اسی طرح کیا | speaker3 | 58 | |
جو اس نے ہمیں کرنے کو کہا مگر کئی دن اوٹ پٹانگ ہوا میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے باوجود اس کا پالتو جانور ہمیں نظر نہ آیا مگر وہ تھی کہ اور زیادہ اس کی دیکھ بھال کرنے لگی | speaker3 | 59 | |
ہم سب کو اس کی ذہنی صحت پر شبہ تھا جو کہ اب یقین میں بدلنے لگا ہم سب نے مل کر ایک پلان بنایا اور اسے ذہنی امراض کے ایک ڈاکٹر سے ملانے کا فیصلہ کیا | speaker3 | 60 | |
یا اس سے ناواقف ہے تو جل نے فورا جواب دیا نہیں ایسی بات نہیں ڈاکٹر صاحب وہ سب زبانیں جانتا ہے مگر وہ خاص طور پر اس کی منپسند زبان میں بات کر رہی تھی | speaker3 | 61 | |
مگر اس کی مراد اس کے خلیے سے ہے جل نے کہا اس کا خلیہ اسے نہیں معلوم ڈاکٹر نے کہا کیا مطلب آپ کو خلیہ نہیں معلوم ابھی تو آپ اسے بہت خوبصورت بتا رہی تھی | speaker3 | 62 | |
اگر آپ کا پالتو جانور بہت خوبصورت ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی ہلیا بھی تو ضرور ہوگا نہ میرا مطلب ہے کوئی ناک نقشہ ڈاکٹر نے چبا چبا کر کہا | speaker3 | 63 | |
جل نے لاپروائی سے کہا اسے اس کے حلیے سے کوئی لینہ دینا نہیں بس وہ یہ جانتی ہے کہ وہ اس کا سب سے پیارا پالتو جانور ہے | speaker3 | 64 | |
میں نے ڈاکٹر کی طرف پلک جھبکتے ہوئے گزارشانہ نظر ڈالی کہ پلیز وہ ہمت نہ آرے اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھے | speaker3 | 65 | |
دکٹر ڈینیل نے انداز بدلتے ہوئے جل سے کہا اچھا یہ بتائیے اگر آپ کو وہ نظر نہیں آتا تو وہ آپ کو کیسے دیکھ لیتا ہے جل نے کہا اس نے کب کہا ہے کہ وہ اسے نظر نہیں آتا دکٹر نے کہا یہی تو میں پوچھ رہا تھا | speaker3 | 66 | |
اگر وہ نظر آتا ہے تو اس کا کچھ نہ کچھ حلیہ کچھ خد و خال ضرور ہوں گے جنہیں دیکھ کر وہ کسی کی پسند یا نا پسند ہو سکتا ہے | speaker3 | 67 | |
میں نے محسوس کیا کہ جلد ڈاکٹر کی باتوں سے بہت زچ ہونے لگی تھی اس نے غصے سے کہا آپ اس کا حلیاں جان کر کیا کریں گے ڈاکٹر نے تھوک نگلتے ہوئے کہا | speaker3 | 68 | |
جی کیا کروں گا شاید میں بھی اس جیسا کچھ اپنے پاس رکھ لوں میرے پاس نہ تو کتا ہے اور نہ بلی ہاں ہاں ضرور آپ کو کون منع کر رہا ہے جلنے بے رخی سے کہا ڈاکٹر ڈینیل مایوسی سے میرا مو تکنے لگے | speaker3 | 69 | |
ہم گھر واپس آگئے گھر واپس آتے ہی جل دوبارہ اپنی مخصوص چادر بچھا کر اس اندیکھے جانور سے کھیل کود میں مصروف ہو گئی | speaker3 | 70 | |
وہ اس سے بہت محبت کرتی جب وقت ملتا اس سے کھیلتی اس سے باتیں کرتی اپنے دل کے سب راز اپنی ہر پریشانی اور خوف اس سے بانٹتی | speaker3 | 71 | |
میں پریشانی سے سوفے پر بیٹھا اسے ٹکنے لگا اس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی خوشی تھی جیسے واقعی اس کا پالتو جانور اس کے سامنے موجود ہے جو اس کی محبت کا جواب بھی اسے دے رہا ہے | speaker3 | 72 | |
وہ جب بھی نہ دکھائی دینے والے پالتو جانور سے کھیل کوچ سے فارغ ہوتی تو اس کے چہرے پر اتمنان کے تاثرات دکھائی دیتے جنہیں دیکھ کر کوئی یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک خاص طرح کے ذہنی آرزے کا شکار ہے۔ | speaker3 | 73 | |
میں بہت تھکا ہوا تھا اور جلد سونا چاہتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں آج سو نہیں سکتا آج کی رات اس کے پالتو جانور سے کھیل کود بہت ضروری ہے | speaker3 | 74 | |
میں بہت پریشان تھا میں نے انجانے میں اسے ڈانٹ دیا کہ اس فضول فرضی کردار کے لیے اب اپنا وقت میں خراب نہیں کر سکتا | speaker3 | 75 | |
میرا خون تیزی سے بے رہا تھا گھر پر ہم دونوں کے علاوہ کوئی نہ تھا وہ رو رو کر اپنے نہ دکھنے والے پالتو جانور سے مدد مانگ رہی تھی | speaker3 | 76 | |
میرا خون بہت زیادہ بہ چکا تھا میں اب ٹھیک سے ہوش میں نہیں تھا کچھ دیر بعد نہ جانے کب باقی گھر والے آئے اور مجھے ہسپتال پہنچایا گیا | speaker3 | 77 | |
میرا خون اتنا زیادہ بہ چکا تھا کہ مجھے تین بوٹل خون لگایا گیا مگر دوسری طرف میرے سر کی چوٹ ٹھیک ہونے کے بعد مجھے خود اپنے ارد گرد ایسی عجیب و غریب چیزیں نظر آنے لگیں جو حقیقت میں کہیں موجود نہ تھیں | speaker3 | 78 | |
جل روز اپنے خوبصورت پالتو جانور کے ساتھ ہسپتال میری تیمارداری کے لیے آتی اور ہم دونوں گھنٹوں اس کے پالتو جانور کی باتیں کیا کرتے | speaker3 | 79 | |
جب ہم میں سے کوئی اسے پوچھتا یہ کون ہے جل آخری ہمیں کیوں نظر نہیں آتا یہ تم کس سے باتیں کرتی ہو کھیلتی ہو | speaker3 | 80 | |
ایک دن تو حد ہو گئی جب اس نے بہت سا کھانا بنا کر اس کھیلنے کی مخصوص چادر پر اس کے لیے رکھا تو ہم سب بہت حیران ہوئے اور انتظار کرنے لگے آج ضرور ہم جل کے نہ دکھنے والے پالتو جانور کو دیکھ لیں گے | speaker3 | 81 | |
باثروم بھی صرف ہمارے استعمال کا ہوگا میں اور کین یہ سوچ سوچ کر ہی خوش ہوا کرتے کہ اب ہمارے برے دن جلد ختم ہو جائیں گے | speaker3 | 82 | |
آج مجھے کام سے چھٹی تھی سوچا کیوں نہ کین اور بچوں کو لے جا کر نئی بستی دکھا لاؤں اور وہاں ان کے پروجیکٹ دفتر کے انچارج سے بھی مل لوں | speaker3 | 83 | |
ہمیں نئی بستی تک ایک چھوٹے ڈائیمنڈ سٹار جہازی رکھشے میں بیٹھ کر جانا ہوتا تھا جو ہمیشہ راستے میں ڈھلوانوں کی وجہ سے بار بار رکھ جاتا تھا | speaker3 | 84 | |
جیسے تیسے آج بھی ہم اپنی اس مفلوق الحال بستی سے نکلے جہاں ایک ایک جہاز میں سو سو لوگ چھوٹے چھوٹے ڈربوں میں رہنے پر مجبور تھے | speaker3 | 85 | |
ہمارے ارد گرد سب ستر اسیس سال پرانے کھندر جہاز تھے جن میں ہزاروں لوگ بڑی مشکل سے گزارہ کر رہے تھے | speaker3 | 86 | |
ہمارے سمجھ زیادتر رہائشی اس بوسیدہ بستی سے نکلنا چاہتے تھے تقریباً سبھی لوگوں نے نیو ایوییشن سٹی میں اپنے لئے جہاز کی قرار اندازی میں قرار ڈال لکھا تھا | speaker3 | 87 | |
انچارج بظاہر سلجھا ہوا انسان معلوم ہوتا تھا ہم نے اپنی فائل اسے دکھائی اور پوچھا کہ ہمارا قرآن کیا نکلا اور ہمیں کون سا جہاز allot ہوا انچارج نے بتایا کہ ہمارے نام کا ایک کانکورڈ نکلا ہے جس میں صرف چار فیملیز ہوں گی | speaker3 | 88 | |
میں نے کین کی طرف دیکھا وہ بچوں کی طرف دیکھنے لگی بچوں نے اکٹھے نفی کے طور پر گردن دائیں اور بائیں گھوما کر اس آپشن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا | speaker3 | 89 | |
میں نے معدبانہ طریقے سے انچارچ سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ براہ مہربانی کوئی چھوٹا جہاز دیکھے جہاں صرف ہماری فیملی رہ سکے | speaker3 | 90 | |
تی بی ایم سیون ہنڈڈ یا بیچ کرافٹ ٹائپ کے چھوٹے جہاز تلاش کر کے دے جہاں صرف ہماری اپنی فیملی آزادی سے رہ سکے | speaker3 | 91 | |
ہمیں امید بندی شاید کوئی خوشخبری ہو اس نے ہمارے سامنے لاک ہیڈ پی تھری ایٹ لائٹننگ کی آپشن رکھی یہ جہاز دو رویا دو مختلف کیابنز کو اپنے پروں کے ساتھ جوڑے ہوئے تھا | speaker3 | 92 | |
ہم بہت مایوس ہوئے اس کی بات سن کر آخر ہم نے اسے کہا کیا جہاز کے علاوہ بھی کوئی آپشن ہے اس نے کچھ دیر فائلز کو دیکھ کر کہا کہ ہاں ایک ہے مگر اس میں آپ چاروں کے لئے رہنا مشکل ہوگا | speaker3 | 93 | |
میں نے اسرار کیا تو وہ بولا ایک راکٹ ہے اسپیس شٹل نامی ابھی ابھی آیا ہے مگر اسے کوئی بھی لینا نہیں چاہتا | speaker3 | 94 | |
اترنے اور چڑنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہے، بلکہ ابھی تک ہم سمیت کوئی اندر بھی نہیں گیا۔ اگر آپ لینا چاہتے ہیں تو آپ کو ابھی چابی دے سکتا ہوں۔ میں نے کین اور بچوں کی طرف دیکھا، بچوں نے گردن سے ہاں کا اشارہ کیا۔ | speaker3 | 95 | |
ہم نے فوراً چابی لی اور پیدل راکٹ کی طرف چل پڑے کچھ ہی دیر میں آسمان سے باتیں کرتا راکٹ ہمارے سامنے کھڑا تھا ایک چھوٹی سیڑھی سے ہم چاروں کسی طرح اوپر چڑھ گئے اور ایک بھاری دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہو گئے | speaker3 | 96 | |
اندر جگہ جگہ کافی پیچیدہ سوش لگے تھے ایک جگہ توائلٹ لکھا تھا کہ ان نے فورا کہا مجھے یہ جگہ رہنے کے لئے منظور ہے | speaker3 | 97 | |
ہنڈن برگ جہاز جہاں ذاتی باثروم اور ٹوئلٹ کی سہولت نہیں تھی بلکہ ہر دس اپارٹمنٹس کے لیے ایک مشترکہ باثروم تھا | speaker3 | 98 | |
ہمیں پوری امید تھی اس سال ہمیں ایوییشن سٹی میں تقریباً دس ہزار نئے جہازوں کی جز بستی کا افتتا ہوا ہے اس میں ہمارے نام کا جہاز بھی ضرور نکل آئے گا | speaker3 | 99 |
End of preview. Expand in Data Studio
README.md exists but content is empty.
- Downloads last month
- 12